نردولی کا آدم خور

نا  اہل بادشاہ
جنوری 3, 2018
umro
جنوری 9, 2018

نردولی کا آدم خور

 

ٹرٹرٹر گھنٹی بجی۔ میں اپنے کمرے سے نکل کر باہر دالان میں آیا۔ دوازے کی کھڑکی ے اوپر سے مجھے ایک پچاس سالہ وجیہہ شخص کا چہرہ نظر آیا۔ اس کی پلی ہوئی مونچھیں اوپر کی جانب اٹھی ہوئی تھیں۔ میری صورت دیکھتے ہی وہ قہقہہ مار کر ہنسا اور بولا: "بھائی بہزاد صاحب، آداب عرض ہے”۔مجھے صورت جانی پہچانی نظر آئی۔ لیکن میں پوری طرح پہچان نہ سکا۔ سلام کے انداز سے مجھے کوئی ہندوستانی محسوس ہوامیں نے کھڑکی کھولی، وہ اندر داخل ہوتے ہی مجھ سے لپٹ گیا۔ وہ سوٹ میں ملبوس تھا۔ مجھ سے بولا،” آپ مجھے پہچانے نہیں بہزاد بھائی۔میں متو خاں ہوں متوخاں شکاری۔ صرف چوبیس، پچیس برس کے اندر ہی بھول گئے۔”

مجھے یاد آگیا۔ میں 1937ء میں جب آل انڈیا ریڈیو دہلی میں ملازم تھا تو ایک نوجوان شکاری میرے پاس زیادہ آیا کرتا تھا۔ اس کی آواز بڑی خوب صورت تھی، غزلیں خوب گاتا تھا اور میری غزلیں اسے بے حد پسند تھیں۔ اس وقت اس کی عمر بیس سال کی ہوگی۔ ہمیشہ بندوق اس کے کندھے سے لٹکی رہتی تھی۔ میں نے کہا۔ "مجھے یاد آگیا، تم میرے پاس دہلی میں ریڈیو اسٹیشن میں آیا کرتے تھے ۔”وہ بولا، "جی ہاں۔ جی ہاں۔ میں وہی متو خاں ہوں۔ ابھی تک ہندوستانی ہوں۔ ویزے پر پاکستان گھومنے آیا تھا۔ سارا وقت لاہور اور پنجاب کی تفریح میں گزر گیا۔ ویزے پرکل پانچ دن رہ گئے تھے۔ مجھے کراچی گھومنا تھا، لہٰذا فوراً آگیا۔ دو دن سے شہر کی تفریح گاہیں دیکھ رہا ہوں۔ بہزاد بھائی۔ پاکستان آکرجانے کو جی نہیں چاہتا۔ آپ سے ملنا بھی ضروری تھا۔ آج صبح آپ کا پتا ریڈیو پاکستان سے معلوم ہوا تو سیدھا آرہا ہوں، شام کی گاڑی سے مجھے واپس ہونا ہے۔ پرسوں سرحد پار کرنا ضروری ہے۔”

میں نے کہا، "کے آمدی وک پیر شدی۔”وہ بولا، "آپ میری دعوت کرنا چاہتے ہوں گے، ضرور کیجئے، لیکن ایک شرط ہے۔” میں نے کہا، پہلے دالان میں بچھی ہوئی کرسوں پر بیٹھ جاؤ، پھر شرط بیان کرنا، میں بوڑھا آدمی ہوں اور علیل بھی کھڑے کھڑے تھک گیا ہوں۔”وہ کرسی پر بیٹھ کر بولا، شرط یہ کہ صرف مڑکے دانے کھاؤں گا، روٹی، سالن، دال، پلاؤ کچھ نہیں، مٹر کی پھلیاں منگائیے اور تلوائیے۔”میں نے ملازم کو پیسے دیے دیے۔ وہ مٹر کی پھلیاں لینے چلا گیا۔
وہ بولا،”مخل تو نہیں ہوا۔”میں نے کہا،”نہیں تو، ہمدرد نونہال کے لیے کچھ لکھنے کا ارادہ کررہا تھا۔” وہ بولا،”تو میرے بچپن کے شکار کا واقعہ لکھ دیجئے۔

عجیب و غریب داستان ہے۔ جب تک مٹر کے دانے بھی تیار ہوجائیں گے۔”میں نے کہا،”کہہ چلو، تم نے مجھے بڑی زحمت سے بچالیا۔”وہ بولا۔ "بہزاد بھائی۔ مجھے یہ بیان کرنے میں کوئی باک نہیں ہے کہ میری ابتداء بے حد غربت کے دور سے ہوئی۔ میں بٹول کا رہنے والا ہوں، جہاں کے سنترے ہندوستان میں مشہور ہیں۔ بٹول سے چھے میل کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا گاؤں تھا، جہاں سنترے کے باغات ختم ہو کر جنگلی علاقہ شروع ہوتا ہے۔ اس گاؤں کا نام لکھن پور تھا۔ ہندو مسلمان کی ملی جلی آبادی تھی۔ کوئی سو ڈیڑھ سو گھر کاشت کاروں کے تھے۔ میرے والد کا نام رمجو خاں تھا۔ ان کا صرف ایک کھیت تھا جس کو انہوں نے بٹائی پردے رکھا تھا اور خود وہ کپڑے کا کاروبار کرتے تھے۔ کپڑے کا کاروبار بھی کیا تھا۔ وہ ناگ پور اور اکولہ جا کر دیہاتیوں کے مطلب کا کپڑا خرید لاتے تھے اور گٹھڑی میں لاد کر گاؤں گاؤں پھیری کرکے کپڑے بیچتے تھے۔

میں نے کہا۔ "اور گھر میں کون رہتا تھا۔”وہ بولا۔ "میری ماں تھیں اور میں۔ وہ ایک ایک ہفتے تک واپس نہیں آتے تھے۔ مجھے اپنی ماں صرف اس حد تک یاد ہیں کہ وہ ایک گوری چٹی، مضبوط جسم کی بلند قامت عورت تھیں۔ میری تعلیم کاکوئی سوال ہی نہیں تھا۔ مجھے خوب یاد ہے کہ میں پانچ سال کی عمر سےگھر کے باہرنکل کر گاؤں کی چرتی چگتی مرغیوں پر ڈھیلوں سے نشانہ بازی کیا کرتا تھا۔ شروع شروع تو میرا نشانہ خطا ہوتا رہا اور مرغیاں آزاد ہو کر بھاگنے لگیں، لیکن میں اپنی دھن کا پکا تھا۔ جب میرا نشانہ مرغی پر بیٹھا اور وہ چوٹ کھا کر تڑپنے لگی تو مجھے بے حد خوشی ہوئی، میں خوب قہقہہ مار کر ہنسا۔میں نے کہا،”کمال ہے۔”

وہ بولا، "بہزاد بھائی، میری تقدیر میں چوں کہ شکاری بننا لکھا تھا، مجھے حیرت ہے کہ بچپن میں مجھے یہ کیوں کر خیال پیدا ہوا کہ میں قریب کے بجائے دور سے نشانہ لگا کر شکار کروں،چناں چہ رفتہ رفتہ میں ڈھیلے بازی میں اتنا مشتاق ہوگیا کہ مرغیوں کا کافی دور سے ڈھیلا پھینک کر شکار کر لیا کرتا اور کمال کی بات یہ بھی کہ جس مرغی کا انتخاب کرلیتا تھا، اسی کو میرا ڈھیلا لگتا تھا، میرا اور کسی کھیل میں دل ہی نہیں لگتا تھا۔میں نے کہا، "گاؤں والے پریشان نہیں ہوئے۔”
وہ بولا، پریشانی تو سب کو تھی، لیکن میں ایک ٹیلے کے پیچھے چھپ کر ڈھیلے بازی کرتا تھا، لہٰذا کسی کو پتا نہ چل سکا۔ میرا نشانہ جم گیا، اب میں نے بکریوں کے ریوڑوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کیا، یقین مانیے بہزاد بھائی، میرا پہلا ہی نشانہ ٹھیک بیٹھا اور کالی موٹی سی بکری کی ٹانگ زخمی ہوگئی۔ اب بجائے مرغیوں کے بکریاں اور بھیڑیں میرا نشانہ بننے لگیں۔ گاؤں والے پریشان ہوگئے، لیکن ان کو پتا نہ چل سکا کہ یہ شرارت کرنے والا کون ہے۔ میری آٹھ سال کی عمر تھی کہ میری والدہ کا انتقال ہوگیا۔ میرے والد پھیری پر گئے ہوئے تھے۔ گاؤں کے ایک لوہار رحیمو نے جن کو میں چچا کہتا تھا، اور گاؤں والوں نے مل کر تجہیز و تکفین کی اور گاؤں کے مکھیا  نے  مجھے رحیمو چچا کے سپرد کردیا۔ رحیمو چچا کی بھی بیوی مرچکی تھی، کوئی اولاد نہ تھی۔ رحیمو چچا اپنی دکان پر دن رات بھٹی کے سامنے بیٹھے ہوئے کڑھائیاں، توے، چمٹے اور سنسیاں بنایا کرتے تھے۔ جن کو پندرہ دن کے بعد وہ ایک دوسرے گاؤں میں پندرہ روزہ بازار لگنے پر فروخت کرنے جایا کرتے تھے۔
میں نے کہا۔ "تمہارے کھانے پینے کا کیا انتظام ہوا۔”  وہ بولا، "رحیمو چچا بھٹی ہی پر موٹی موٹی روٹیاں پکالیتے تھے، سبزی بنالیتے تھے اور میں اور وہ دونوں کھالیا کرتے تھے۔ خلاف معمول والدہ کے انتقال کے ایک مہینہ بعد والد صاحب گاؤں آئے اور والدہ کی قبر پر جا کر بہت روئے۔ مجھے ہدایت کی کہ میں رحیمو چچا کے ہاں ہی قیام رکھوں، وہ پھر چلے گئے اور ایک ہفتے کے بعد جب واپس آئے تو ان کے ساتھ ایک عورت اور ایک لنگڑا جوان آدمی تھا جس کو انہوں نے میرے گھر میں بسا دیا۔ مجھے رحیمو چچا سے معلوم ہوا کہ وہ میری سوتیلی ماں ہے۔”

میں نے کہا۔ "تم کو رنج ہوا ہوگا۔”وہ بولا، "جی نہیں، میرا اس کا واسطہ ہی نہیں پڑا۔ میں دن بھر جنگل کی طرف نکل جانے لگا۔ میری نشانہ بازی کا ذوق مجھے مجبور کرتا۔ جنگل کا انتخاب میں نے اس لیے کیا کہ کسی نہ کسی دن گاؤںوالوں کو اس کا علم ضرور ہوجانا تھا کہ بکریوں اور بھیڑوں کو زخمی کرنے والا شریر میں ہی ہوں۔ میں نے جنگل کے ابتدائی حصے میں ایک ٹیلے کو اپنی نشانہ بازی کا مرکز بنا کر ڈھیلے مارنا شروع کیے اورمیں خوشی سے اچھل اچھل پڑتا تھا۔ جب میرا نشانہ ٹھیک ٹھیک بیٹھ جاتا تھا۔ اتفاقاً پہلے ہی دن مجھے کوئی اپنے سے پچاس گز دور ایک مرغابی بیٹھی ہوئی ملی۔ غالباً اس حصے میں کوئی بڑا جوہڑ تھا۔ میں نے ایک بڑا سا ڈھیلا اٹھا کر آہستہ آہستہ اس کے قریب جانا شروع کیا۔ تقریباً بارہ، چودہ گز رہ گیا تو میں نے وہ ڈھیلا مرغابی کے اوپر پھینکا۔ ڈھیلا اس کے بازو پر پڑا اور درد کی شدت سے اس نے ٍٍٍٍٍلوٹنا شروع کیا۔ میں تیزی سے لپکا اور اس کی ٹانگوں کو ہاتھ میں دبا کر اس کو اٹھائے ہوئے سیدھا چچا رحیمو کی دکان پر پہنچا، چچا رحیمو مرغابی کو دیکھ کرحیران رہ گئے۔ جلدی سے انہوں نے اس کو ذبح کیا۔پر نوچے، اس کو صاف کیا اور گھر سے نمک مرچ تیل لا کر بھٹی پر بھوننا شروع کیا، ہم دونوں نے اس کا گوشت مزے لے لے کر کھایا۔

چچا نے مجھ سے کہا، "تم نے یہ مرغابی کیوں کر پکڑی۔”میں نے صفائی کے ساتھ اپنی نشانہ بازی کا حال بتایا، وہ قہقہہ مار کر ہنسے اور بولے، "تو یہ کہ کہو مرغیوں، بکریوں اور بھیڑوں پر حملہ کرنے والے تم ہو جس کا آج تک گاؤں والوں کو پتا نہیں چلا۔ اگر کچھ دنوں تم مشق کرتے رہے تو بہت اچھے شکاری بن سکتے ہو۔ میں تم کو لوہے کی ایک غلیل بنائے دیتا ہوں۔ لوہے کے بے کار ٹکڑے تپا کر میں ان کو ایک طرف سے نوکیلا کیے دیتا ہوں۔ تم روز جنگل میں جا کر آج ہی کی طرح چڑیاں مار لایا کرو تو میں روٹی پکانے کی مصیبت سے بچ جاؤں گا۔ چچا بھتیجے دونوں گوشت ہی گوشت کھایا کریں گے۔” دوسرے دن مجھے ایک غلیل مل گئی اور لوہے کے پچاس ساٹھ ٹکڑے جن کو چچا نے ایک تھیلے میں بھر کر مجھے دے دیا اور غلیل چلانے کی ترکیب بھی سمجھا دی۔ میں نشانہ باز پہلے تھا۔ محض ان کے بتانے پر میں نے غلیل سے ایک درخت پربیٹھی ہوئی چڑیا کو فوراً ہی مارگرایا۔ چچا خوش ہوگئے۔ ہر روز میں کوئی نہ کوئی مرغابی یا تیتر یا دس پانچ بٹیر ضرور لانے لگا اور یوں ہم چچا بھتیجے گوشت خور بن گئے۔ غلیل کی وجہ سے میں کافی دور سے چڑیوں کو گرالیتا تھا۔ اب میں بے خوف جنگل میں دور تک نکل جانے لگا۔

ایک دن میں جارہا تھا کہ  ایک طرف سے ایک سیاہ سانپ نکل کر میرے سامنے پھن نکال کر کھڑا ہوگیا۔ میں نے بغیر کسی خوف کے اپنی غلیل سے اس کے پھن پر نشانہ لگایا۔ اس کا پھن ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ روزانہ گوشت خوری کے باعث میں تندرست و توانا ہوگیا۔ میرا جسم تیزی کے ساتھ نشوونما پانے لگا۔ ایک دن میں جنگل میں کافی دور نکل گیا کہ مجھے ہرنوں کا ایک ریوڑ نظر آیا، میں نے ایک ہرن پر غلیل چلائی۔ میرا لوہے کا غلہ اس کے ماتھے پر بیٹھا اور اس نے گر کر تڑپنا شروع کیا۔ میں نے اس ہرن کو جس کا وزن ایک من سے کسی طرح کم نہیں تھا اور وہ زندہ بھی تھا، اپنے اوپر لاد لیا اور جب میں اس کو لے کر رحیمو چچا کے ہاں پہنچا تو وہ مارے خوشی کے ناچنے لگے، میری پیٹھ ٹھونکی۔”

میں نے کہا،”یار متو خاں، تم تو شکاری بننے کے لیے ہی پیدا ہوئے تھے۔” وہ بولا، "بہزاد بھائی، انسان جو کچھ بننا چاہے، اس کا ارداہ اور اس کی ہمت اس کو بنادیتی ہے شرط یہ کہ اس کا عزم کامل ہو، جلاد بھی انسان ہی ہوتا ہے، قاتل بھی انسان ہی ہوتا ہے، چور بھی انسان ہی ہوتا، ڈاکو بھی انسان ہی ہوتا ہے، غازی بھی انسان ہی ہوتا ہے۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ مجھے چچا کے ساتھ رہتے ہوئے پانچ برس ہوگئے تھے، میرے والد کبھی کبھی آکر مجھے دیکھ جایا کرتے تھے اور بس میں نے بھی گھر کا رخ نہیں کیا۔ جنگل کی تمام ہیبت اور خوف میرے دل سے نکل گیا۔ میرا نشانہ پختہ تر اور کامل سے کامل تر ہوتا گیا۔ میرا اب تک شیر اور چیتے سے واسطہ نہیں پڑا تھا۔ بھیڑیے میں کئی بار مار چکا تھا جن کی کھالیں چچا نے اتار کر بیٹھنے کے کام میں لے لی تھی۔ گوشت گاؤں کے کتوں کو ڈال دیا تھا۔ آپ کو تعجب ہوگا بہزاد بھائی، تیرا سال کی عمر میں اٹھارہ سال کا نوجوان نظر آتا تھا۔ گوشت خوری، جنگل کی آب و ہوا، پرسکون اور آزاد زندگی نے مجھے قبل از وقت جوان کردیا تھا۔ میں اپنے جسم میں بے پناہ طاقت بھی محسوس کرتا تھا۔”

ایک دن گاؤں میں شور اٹھا کہ لچھمن چرواہے کو شیر اٹھا کر لے گیا ہے۔ وہ ریوڑ کے ساتھ گھر واپس آرہا تھا کہ ریوڑ واپس آگیا، لیکن وہ غائب تھا۔ اس کے نہ آنے پر گاؤں والے لاٹھیاں لے کر اس راستے پر بڑھے۔ ابھی سورج ڈوبنے میں ایک گھنٹہ باقی تھا کہ ان لوگوں نے جس مقام پر شیر نے چرواہے کو پکڑا تھا۔ اس مقام پر خون کا  تھالا  دیکھا  اور شیر اپنے شکار کو منھ میں دبا کر جس طرف لے گیا تھا، خون کے دھبے برابر نظر آرہے تھے۔ کوئی ایک میل تک انہیں خون کے دھبے نظر آتے رہے یہاں تک کہ انہیں لچھمن کی ادھ کھائی ہوئی لاش ملی۔ گاؤں بھر میں کہرام مچ گیا۔
میں نے کہا، "تم کہاں تھے اس وقت۔” وہ بولا، "میں نے تین مرغابیاں مار لیں تھیں، ان کو لیے ہوئے چچا رحیمو کے ہاں آرہا تھا، دوسرے دن گاؤں کی ایک بڑھیا فجر کے وقت حوائج ضروریہ کے لیے بیٹھی ہی تھی کہ شیر اس کو دبا کر لے گیا۔ اس کی چیخیں سن کر گاؤں والے دوڑے، لیکن کوئی پتا نہیں چلا۔ مسلسل پانچ دن تک گاؤں کے رہنے والے شیر کے ہتھے چڑھنے لگے تو گاؤں والوں نے گھبرا کر مکھیا سے کہا جو سیدھا ناگ پور ڈپٹی کمشنر کے پاس پہنچا۔ وہاں سے فوراً ہی تین چار شکاری گاؤں بھیج دیے گئے۔ میں ان کا ساز و سامان دیکھ کر حیران رہ گیا۔ ان کے ساتھ ٹارچیں تھیں،بندوقیں تھیں،تھرماس تھے۔ وہ لوگ آکر مکھیا کے مہمان ہوئے۔ گاؤں والوں نے ان کی خوب خاطر مدارات کی انہوں نے جا کر ان مقامات کا معائنہ کیا جہاں جہاں  حادثات ہوئے تھے۔”

میں نے کہا۔ "لیکن کیا فائدہ ہوا ہوگا۔”وہ بولا، آپ سچ کہتے ہیں۔ انہیں کوئی نشان نہ مل سکا۔ وہ رات میں تھک کر سورہے تھے کہ چار بجے،چیخ پکار کی آواز بلند ہوئیں۔ گاؤں والے لالٹینیں لے کر نکل پڑے۔ مرلی دھر کو شیر اس کے گھر سے اٹھا لے گیا تھا۔ ایک طرف کی دیوار ٹوٹی ہوئی تھی جسے پھاند کر وہ اندر آیا اور اس کو منہ میں دبا کر، دیوار  پھاند کر لے گیا۔ جب شکاریوں کو اس واقعے کی اطلاع ملی تو صبح ہورہی تھی۔ پہلے تو شکاریوں نے ناشتہ کیا، چائے پی اور دن نکلنے پر مرلی دھر کے مکان پر پہنچے۔گاؤں والوں کے ساتھ میں بھی ہولیا۔ جہاں سے مرلی دھر کو شیر نے دبایا تھا، وہاں خون کا تھالا جما ہوا تھا۔ دیوار پر خون کی بوندیں تھیں اور دیوار کے باہر جس طرف شیر لاش کو لے کر چلا تھا۔ خون کے نشانات موجود تھے۔ اوروں کا تو میں نہیں کہہ سکتا، لیکن چوں کہ اس رات میں شبنم گری تھی۔ زمین میں تری کے باعث شیر کے پنجوں کے نشانات صاف نمایاں تھے۔ مجھے ان نشانات میں ایک پیر کا نشان ہلکا نظر آیا۔”

میں نے کہا، "تمہارا مطلب یہ ہے کہ شیر کا ایک پیر چوٹیلا تھا۔”اس نے کہا، جی ہاں، تقریباً دو میل خون کے نشانات کے سہارے سب لوگ ایک مقام پر نکلے، جہاں جھاڑیاں ہی جھاڑیاں تھیں، انہی جھاڑیوں کے درمیان میں مرلی دھر کی لاش پڑی ہوئی تھی، اس کا ایک پیر اور ایک ہاتھ غالباً شیر نے کھالیا تھا۔ منظر بڑا خوفناک تھا۔ تینوں شکاری اسی مقام پر رک گئے اور لاش کے قریب تین درختوں پر مچانیں بندھوانے کا حکم دے کر وہ لوگ واپس ہوئے۔ میں بھی چلا آیا۔ میں نے چچا سے ذکر کیا کہ شیر کا شکار دیکھنا چاہتا ہوں۔وہ بولے۔ "ٹھیک ہے، لیکن تم رات میں کیوں کر جاسکو گے۔ ان شکاریوں کے پاس تھرماس میں چائے ہوتی ہے، ٹارچ ہوتی ہے، بندوقیں ہوتی ہیں۔ چائے پی پی کر یہ رات جاگ کر بسر کرلیتے ہیں۔”میں نے کہا، "چچا کوئی ایسی دوا تم کو نہیں معلوم جس کو کھا کر نیند نہ آئے۔”  وہ بولے۔ "معلوم تو ہے۔ سامنے کی جھاڑیوں میں جو کالی کالی ہریالیاں لگی ہوئی ہیں، ان کو کھالو رات بھر نیند نہیں آئے گی۔ لیکن یہ انتہائی کڑوی اور بدمزہ ہوتی ہیں۔ ان کو جانور تک نہیں چھوتے۔”  میں نے ہریالیاں لیں۔ واقعی نیم سے زیادہ کڑوی تھیں۔ لیکں میں شکار کے شوق میں کھا کر چلاگیا۔ یہاں تک کہ شام کے چار بج گئے۔ کل جو ہرن مارا تھا، اس کا گوشت موجود تھے۔ اس سے پیٹ بھرنے کے بعد میں شکاریوں سے پہلے ان مچانوں کے پاس پہنچ گیا۔ لاش کی سڑاند ہوا میں بسی ہوئی تھی، مکھیاں لاش پر بھنبھنارہی تھیں۔ میں درخت پر چڑھ گیا جہاں سے لاش صاف نظر آرہی تھی۔ میں نے اپنے آپ کو پتوں میں چھپایا ہی تھا کہ تینوں شکاری آتے ہوئے نظر آئے۔ ان میں ایک ہندو، ایک سکھ اور ایک انگریز تھا۔ ان کے ساتھ گاؤں والے بھی تھے۔ ان کے بیٹھتے ہی سورج غروب ہونا شروع ہوا اور جنگل میں تاریکی نے تسلط جمالیا۔”

میں نے کہا، "جنگل میں شب گزاری کا تمہارے لیے پہلا موقع ہوگا، تمہارا کیا حال تھا۔”وہ بولا، "بہزاد بھائی، یقین جانیے مجھے ذرہ برابر بھی خوف نہیں تھا۔ قریب آدھی رات تک وہ آپس میں باتیں کرتے رہے۔ سگریٹوں پر سگریٹیں جلتی رہیں۔ جنگلی جانوروں کی آوازیں برابر جنگل میں سنائی دیتی رہیں۔ مگر مجھ پر ذرہ برابر بھی خوف طاری نہ ہوا۔ میں بہ آرام درختوں کی شاخوں پر بیٹھا رہا، یہاں تک کہ رات کافی گزر گئی، شکاریوں کی باتیں بھی بند ہوگئیں، غالباً وہ اونگھ گئے ہوں گے۔ لیکن میری آنکھوں میں نیند کا کہیں سے کہیں تک پتا نہیں تھا۔ میں آرام سے بیٹھا ہوا جاگ رہا تھا۔ یکایک بندروں کی آوازیں مسلسل آنا شروع ہوئیں۔ میں سمجھ گیا کہ شیر کو دیکھ کر بندر خوف کھارہے ہیں، میں چوکنا ہو گیا۔ پتوں پر بھاری قدموں کی آواز قریب سے قریب تر آنا شروع ہوئی۔ میری آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے کی عادی تھیں، میں نے ایک جانب سے شیر کو آتے دیکھا، وہ آیا اور لاش کے پاس بیٹھ کر آرام سے لاش کو کھانے لگا۔ ہڈیوں کی کڑکڑاہٹ صاف سنائی دے رہی تھی۔

غالباً کسی شکاری کی آنکھ کھل گئی۔ ٹارچ کی روشنی کا ہالہ بیٹھے ہوئے شیر پر پڑا۔ وہ روشنی میں نہاگیا۔ ایک فائر کی آواز آئی، لیکن غالبا گولی شیر کو نہیں لگی۔ وہ زور سے ڈھکا اور جس طرف کی مچان سے فائر ہوا تھا۔ اس پر اس نے زمین سے پیٹ لگا کر جست لگائی۔ دوسرے درختوں پر بیٹھے ہوئے دونوں شکاریوں کی ٹارچیں بھی شیر پر اس وقت پڑ رہی تھیں۔ شیر نے پہلے فائر والے کی مچان پر اپنا پنجہ اس طاقت سے مارا کہ مچان ٹوٹ گیا اور میں نے شکاری کو زمین پر گرتے ہوئے دیکھا، اس موقع پر دوسرے شکاریوں نے بھی شیر پر فائرکیے، لیکن سب غالباً خالی گئے۔ شیر زمین پر گرئے ہوئے شکاری کی طرف پنجہ اٹھا کر بڑھا ہی تھا کہ میں نے اسی لمحےغلیل میں لوہے کا نوک دار غلہ لگا کر شیر کی آنکھ پر مارا۔ غلہ شیر کے اس وقت لگا جب وہ اپنا پنجہ شکاری پر مارنا چاہتا تھا۔ شیر کی آنکھ غلہ لگتے ہی پھوٹ گئی۔ اس نے ایک زوردار  دھاڑ ماری اور پچھلے پاؤں چیختا ہوا جنگل میں بھاگ گیا۔ اس کی چیخوں کی آوازیں مسلسل دور ہوتی ہوئی نظر آرہی تھیں۔ جب یہ چیخیں بالکل بند ہوگئیں اور صبح کے آثار رونما ہونے لگے تو دونوں شکاری مچانوں سے نیچے اترے اور زمین پر گرے ہوئے شکاری کے پاس پہنچے، غالباً اس کا ایک کولہا اتر گیا تھا،اٹھنے سے معذور تھا،لیکن ہوش میں تھا۔میں درختوں میں چھپا بیٹھا رہا۔ یکایک ایک شکاری نے متواتر کئی ہوائی فائر کیے جن کی آوازوں پر گاؤں والے فوراً ہی آموجود ہوئے۔ زخمی شکاری کے لیے گاؤں سے پلنگ لایا گیا اور اس کو لاد کر گاؤں لے جایا گیا۔ اس کے ساتھ دوسرے شکاری جب جنگل سے چلے گئے تو میں درخت سے نیچے اتر، جب میں اس جگہ پہنچا، جہاں شکاری گرا تھا، تو مجھے وہاں ایک ٹارچ، ایک تھرماس اور ایک تھیلا نظر آیا۔ میں نے وہ تینوں چیزیں اٹھالیں اور ایک دوسرے راستے سے رحیمو چچا کی دکان پر پہنچا۔ میں نے ان تینوں چیزوں کو واپس کرنا مناسب خیال نہیں کیا،ورنہ گاؤں والے مجھے الزام دیتے کہ میں وہاں کیوں موجود تھا۔ ٹارچ کی مجھے ضرورت تھی اور تھرماس کی بھی۔ تھیلا کرمچ کا بنا ہوا تھا اس کے کھولنے پر مجھے اس میں ڈبل روٹی کے ٹکڑے ملے اور اس میں ایک کتاب انگریزی زبان میں چھپی ہوئی ملی جس میں تصویریں تھیں۔ میں نے اس کتاب کو دیکھنا شروع کیا۔ کتاب تو میں پڑھ نہیں سکتا تھا۔ کتاب میں غالباً شکاریوں کے حالات تھے۔ ایک تصویرمیں، میں نے سیاہ سیاسی قد آور آدمیوں کو بلم سے شیر کا شکار کرتے ہوئے دیکھا۔

میرے دماغ میں پہلی بار بلم کا خیال پیدا ہوا۔ میں نے رحیمو چچا سے کہا۔”مجھے ایک بلم بنادو چچا، میں اب بلم سے شکار کی مشق کرنا چاہتا ہوں۔”وہ بولے، "اچھی بات ہے۔”انہوں نے اسی دن مجھے ایک ہلکا سا بلم بنادیا جس کو لے کر میں چلاگیا۔ میں نے بلم کو نشانے پر پھینکنے کی مشق شروع کی۔ غلیل کی نشانہ بازی کی مشق اس میں بھی کام آگئی۔ ایک ہفتے کے اندر ہی میں نے کئی تیتر،مرغابیاں بلم سے چھید ڈالیں۔ ایک ہرن بھی بلم سے زخم کرکے گرالیا۔ اب میں غلیل اور بلم دونوں ساتھ رکھنے لگا۔ادھر میرے گاؤں والوں کو سکون ہوگیا۔ اس شیر نے اب ایک دوسرے گاؤں کے لوگوں کا شکار شروع کردیا جو یہاں سے 10 میل دور تھا۔ سرکاری حکم سے جب شکاری وہاں پہنچےتو شیر نے ایک تیسرا گاؤں تاک لیا اور اب وہاں سے لوگوں کے اٹھائے جانے کی خبریں آنے لگیں۔ سرکاری کارندے اور شکاری بھی حیران تھے جب وہ کسی گاؤں میں وقوعہ کرتا تھا اور شکاری پہنچتے تھے تو جانے اسے کیوں کر خبر ہوجاتی تھی اور وہ اس گاؤں کو چھوڑ کر دوسری بستیوں پر حملے شروع کردیتا تھا۔ یہاں تک کہ دو سال کی مدت گزر گئی۔ اس آدم خور نے تقریباً ساٹھ ستر آدمی ہلاک کر ڈالے۔ ہر گاؤں کے لوگ ہراساں اور پریشان نظر آنے لگے۔ کھیتی باڑی کے اوقات میں بھی دو ایک فالتو آدمی کھیتوں کی نگرانی پر ڈٹے رہتے تھے۔ وہ دن میں بھی تنہا آدمی کو نہیں چھوڑتا تھا۔ حکومت نے گھبرا کر ایک ہزار روپے نقد کا اعلان کردیا۔

میں نے کہا، "بڑی رقم کا اعلان کیا۔ پیشہ ور شکاریوں کی تو بھرمار ہوگئی ہوگی۔”وہ بولا، ” نہ پوچھئے، بڑے بڑے جغادری شکاری آۓ، لیکن آکر ناکام ہی گئے۔ ایک دن میں رحیمو چچا کی دکان پر بیٹھا ہوا بھٹی سلگا رہا تھا کہ میرے والد آئے اور آتے ہی مجھ سے لپٹ کر رونے لگے۔ میرے پوچھنے پر انہوں نے کہا، "بیٹا، میرا سارا روپیہ ڈوب گیا، میں پیسے پیسے کو محتاج ہوگیا ہوں۔ جن جن لوگوں کو میں نے قرض کپڑا دیا تھا، وہ سب لے لے کر بھاگ گئے۔ اب صرف کھیت ہی کھیت رہ گیا ہے۔”میں نے کہا، آپ گھبرائیے نہیں۔ اللہ مالک ہے۔ان کے جانے کے بعد مجھے پہلی بار ایک ہزارو روپیہ انعام حاصل کرنے کا خیال پیدا ہوا۔ وہ آدم خور نردولی کے آدم خور کے نام سے مشہور تھا۔ یہ گاؤں میرے گاؤں سے پچیس میل دور تھا۔ وہاں اس نے مسلسل گاؤں والے شکار کیے تھے اور اب تک وہ اس کے قریب جنگلات میں موجود تھا۔ کئی شکاری نردولی میں مستقل مقیم تھے اور وہ ظالم آدم خور ان کی موجودگی میں ہر روز کسی نہ کسی آدمی کو شکارکرلیا تھا۔ پاڑے بھی باندھے گئے، مچان بھی ۔ رات رات بھر شکاری اور گاؤں والے شیر کی فکر میں رہے، لیکن وہ ہاتھ نہ آنا تھا نہ آیا۔رحیمو چچا سے بغیر کہے ہوئے میں نردولی روانہ ہوا۔ میرے ساتھ اب ٹارچ بھی تھی جس کے سیل میں نے شہر سے منگوا کر بھروالیے تھے۔ تھرماس بھی تھا جس میں میں نے چائے بنا کر بھرلی تھی۔ وہ تھیلا بھی تھا جس میں نیند اڑانے والی پیپریاں اور نکیلے غلے میں نے بھر لیے تھے۔ کچھ روغنی روٹیاں بھی رکھ لی تھیں۔ غلیل اور بلم ہاتھ میں لے کر میں جنگل ہی جنگل روانہ ہوا۔ نردولی جنگل کی پگ ڈنڈویوں سے دس میل پڑتا تھا اور سڑک کے راستے سے پچیس میل۔ میں بہ آرام ڈھائی گھنٹوں میں نردولی پہنچ گیا۔ نردولی میں شکاریوں کے کئی خیمے گاؤں کے باہر لگے ہوئے تھے۔ ان کی خاطر تواضع میں گاؤں والے اپنی حیثیت سے زیادہ لگے ہوئے تھے۔ میں اس گاؤں کے لیے نیا آدمی تھا۔ ٹھہرنے کا بڑا مسئلہ تھا۔ لیکن میرے واسطے یہ مسئلہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا۔ میں جنگل میں ایک گھنے درخت کے نیچے بیٹھ گیا۔ کھانا میرے ساتھ تھا۔ میں نے دوپہر کاٹ لی۔ شکاریوں کے لیے مچان مختلف مقامات پر باندھے جانے لگے۔ مچان کے نیچے ایک بکرا باندھا گیا۔ کوئی پانچ چھے شکاری تھے اور سب کے سب مشہور۔

میں نے کہا، "تم نے کیا کیا۔”وہ بولا، "بہزاد بھائی کیا کرتا۔ ان مچانوں سے تقریباً دو فرلانگ کے فاصلے پر میں نے ایک درخت کو اپنے بسیرے کے لیے منتخب کرلیا۔ میرے سامنے نہ کوئی پروگرام تھا اور نہ کوئی امید کامیابی، میں پچھتا رہا تھا کہ میں کیوں آیا، اسی میں شام ہوگئی۔ میں درخت پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔ چاند آج کل رات کو بارہ بجے کے بعد نکلنے لگا تھا۔ رات جوں جوں بڑھتی گئی۔ جنگل کا سناٹا بھیانک سے بھیانک تر ہوتا گیا۔ چوں کہ میں مچانوں سے کافی دور تھا، لہٰذا شکاریوں کا کوئی احوال مجھے معلوم نہ ہوسکا۔ یکایک چاند نکلا اور جنگل چاندنی میں نہاگیا۔ مجھے نیند کے جھونکے آنے لگے۔ میں نے چائے پر چائے پی۔ لیکن مجھے کوئی فائدہ نہ ہوا۔ ان بیری نما کڑوے پھلوں کو کھاتے ہی نیند آرام سے اڑ گئی۔ اچانک میرے کانوں میں شیر کی آواز آئی۔ عجیب قسم کی دھاڑ تھی۔ خوف اور غصے سے علیحدہ ایک قسم کی دھاڑ تھی۔ جس کے جواب میں ایک دوسری دھاڑ اسی قسم کی مجھے قریب سے سنائی دی۔ ان دھاڑوں کا تبادلہ مسلسل شروع ہوا۔ مجھے بھاری قدموں کی چاپ اپنے درخت کے قریب سے سنائی دی۔ پتوں کے پیروں سے دبنے کے بعد جو کھڑاکھڑاہٹ پیدا ہورہی تھی، صاف نمایاں تھی۔ یہاں تک کہ میں نے ایک شیر کو دیکھا جو ایک پیر سے لنگ کرتا تھا۔ وہ میرے درخت سے دو گز کے فاصلے پر آکر ٹھہرا۔ چاندنی میں مجھے صاف نظر آیا، اس کی ایک ہی آنکھ تھی۔ میں سمجھ گیا۔ یہ وہی آدم خور ہے۔اس شیر نے دھاڑ مارنے کے لیے منھ کھولا۔ بلاارادہ میرا ہاتھ بلند ہوا اور میں نے بلم شیر کے کھلے ہوئے منھ میں مارا جو محض اتفاقاً اس کے حلق میں جا کر پھنس گیا۔ شیر نے گھبرا کر جست لگائی اور جب وہ گرا تو اس کے گرنے سے بلم اور بھی اس کے سینے میں اتر گیا۔ اس نے دھاڑیں مار کر تڑپنا شروع کردیا۔ میں سمجھ گیا، بلم اس کے سینے میں پھیپھڑوں یا دل کے پار اتر گیا ہے۔ وہ تڑپتا رہا۔ اس کی چیخیں اب کراہوں میں تبدیل ہوگئیں۔ یہاں تک کہ آواز آنا بالکل بند ہوگئی۔ میں صبح کا انتظار کرنے لگا تقریباً دو گھنٹے کے بعد صبح ہوگئی۔ میں نے اور انتظار کیا۔ جب روز روشن ہوگیا تو میں درخت سے اترا شیر کے قریب گیا۔ وہ اب مرچکا تھا۔ اب میں اس جانب بڑھا  جس طرف شکاریوں کی مچانیں تھیں۔ شکاری مچان سے اترے ہوئے کھڑے تھے اور سب کے سب حیران نظر آرہے تھے۔ ان کو گھیرے ہوئے  گاؤں کے بیس پچیس آدمی کھڑے تھے۔میں نے گاؤں والوں سے کہا، ” میں نے آدم خور کو بلم سے مار ڈالا ہے۔ آپ لوگ چل کر اس کو اٹھالیں۔”
ایک شکاری نے قہقہہ مارتے ہوئے کہا، "ارے لڑکے، کیوں الوبنارہا ہے، کہیں بلم سے شیر مارا جاتا ہے۔”
میں نے کہا، "سانچ کو آنچ نہیں ہے۔ دو فرلانگ تک آپ کو چلنا ہوگا۔ خود آپ لوگ دیکھ لیں گے”۔ وہ لوگ بادل ناخواستہ ساتھ ہولیے۔ شیر کو مرا ہوا دیکھ کر وہ لوگ حیران رہ گئے۔

ان میں اسی شکاری نے کہا، "لیکن اس کا کیا ثبوت ہے کہ تم نے اس کو بلم سے مارا ہے۔” میں نے کہا، "گاؤں لے جا کر اس کی کھال ادھڑوائیے، اس کے حلق کے اندر سے میرا بلم برآمد ہوجائے گا۔” دیہاتیوں نے شیر کی لاش کو دو ڈنڈوں میں لگا کر گاؤں کا رخ کیا۔ جب شیر کی کھال اتاری گئی تو اس کے اندر سے میرا بلم برآمد ہوا۔ جو شیر کے پھیپھڑوں میں گھسا ہوا تھا۔ سارے شکاری حیران ہو گئے۔ مکھیا نے اس کی اطلاع فوراً ناگ پور کی کمشنری کو بھیجی جہاں سے دوسرے دن میری طلبی ہوئی۔ میرے پہنچنے پر افسران کو مجھے دیکھ کر یقین نہیں آرہا تھا کہ میں نے بلم سے شکار کیا ہو۔ میں نے بلم ہاتھ میں لے کر دور جاتی ہوئی ایک بکری پر بلم پھینک کر ورا کیا۔ بکری بلم سے چھد کر گر گئی۔ مجھے سرکار سے ایک ہزار روپیہ انعام کا اور ایک بندوق کا لائسنس ملا اور مجھے ایک شکاری کے سپرد کیا گیا کہ میں اس سے بندوق چلانا سیکھ لوں۔ وہ ایک ہزار روپیہ لا کر میں نے اپنے والد کے قدموں میں ڈال دیے۔ بہزاد بھائی، وہ دن ہے اور آج کا دن میرے نشانے اور شکار کا جواب نہیں۔ انسان کا عزم، محنت اور مشق انسان کو کامیابی کی منزل سے ضرور روشناس کرادیتی ہے، مٹر کے دانے تیار ہوگئے ہوں گے       بہزاد بھائی، منگوائیے، مارے بھوک کے میرا برا حال ہے۔