خونی تھوک

انوکھا لفافہ
نومبر 28, 2017

"خالد۔۔۔۔۔۔وحید کو تم نے دیکھا کسی ڈبے میں۔”

"نہیں تو”

"خدا جانے اس گاڑی سے آیا بھی ہے یا نہیں۔”

"تار میں تو اسی گاڑی کا ذکر تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ارے، وہ ڈبے میں کون ہے۔۔۔۔وحید۔”

"ہاں، ہاں، وحید۔”

دونوں دوست بھاگتے ہوئے اس ڈبے کی طرف بڑھے جس میں سے وحید اپنا اسباب اتروا رہا تھا۔

ریفرشمنٹ روم والا مسافر تیزی سے فرسٹ کلاس کمپارٹمنٹ کی طرف بڑھا۔ باہر دروازے کے ساتھ لگے ہوئے کاغذ کو ایک نظر دیکھنے کے بعد دروازہ کھول کر ڈبے کے اندر داخل ہو گیا اور پیتل کی سلاخ تھام کر قلی اور اپنے اسباب کا انتظار کرنے لگا۔

قلی اسباب سے لدا ہوا گاڑی کے ڈبوں کی طرف دیکھ دیکھ کر دوڑا چلا آ رہا تھا۔ مسافر نے اسے جھلا کر بلند آواز میں پکارا۔

"ابے اندھے، ادھر آ”

قلی نے مسافر کی آواز پہچان کر ادھر ادھر نگاہ دوڑائی مگر بھیڑ میں خود مسافر کو نہ دیکھ سکا، وہ ابھی اسی پریشانی کی حالت میں ہی تھا کہ ایک اور آواز آئی۔

"کیوں۔ نظر نہیں آ رہا کیا؟ ادھر، ادھر۔۔۔۔۔ناک کی سیدھ۔”

قلی نے مسافر کو دیکھ لیا اور اسباب لیکر اسکے ڈبے کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔

"صاحب، ایک طرف ہٹ جائیے میں اسباب اندر رکھ دوں”

"ہاں رکھو” دروازے کے ساتھ ایک گدے دار نشست پر بیٹھتے ہوئے بولا۔ "مگر اتنا عرصہ سوئے رہے تھے کیا؟ خانسامے نے تمھیں یہ نہیں کہا تھا کہ صاحب کا سامان اٹھا کر گاڑی آتے ہی فوراً ڈبے میں رکھ دینا؟”

"مجھے معلوم نہیں تھا کہ آپ کس ڈبے میں سوار ہونگے” قلی نے ایک بھاری ٹرنک اٹھا کر بالائی نشست پر رکھتے ہوئے کہا۔

"یہ ڈبہ ہمارا ریزرو کرایا ہوا ہے، باہر چٹ پر نام بھی لکھا ہوا ہے۔”

"آپ نے پہلے یہ کہا ہوتا تو ہرگز یہ دیر نہ ہوتی”۔۔۔۔۔ایک، دو، تین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔آٹھ۔۔۔اور دس، قلی نے اسباب کی مختلف اشیا گننا شروع کر دیں۔

سامان قرینے سے رکھنے کے بعد قلی نے اپنے اطمینان کے لیے ایک بار رکھی ہوئی چیزوں پر نگاہ ڈالی اور ڈبے سے نیچے پلیٹ فارم پر اتر گیا۔

"صاحب، اپنا سامان پورا کر لیجئے”

مسافر نے بڑی بے پروائی سے اپنی جیب سے ایک نفیس بٹوہ نکالا اور ابھی کھول کر مزدوری ادا کرنے والا ہی تھا کہ اسے کچھ یاد آیا۔

"ہماری چھڑی کہاں ہے؟”

"چھڑی؟۔۔۔۔۔۔۔ چھڑی تو آپ کے پاس ہی تھی۔”

"میرے پاس، بکتا کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔وہیں چھوڑ آیا ہو گا تو”

"چھڑی آپ کے پاس تھی۔۔۔۔۔مگر صاحب اس سخت کلامی سے پیش آنا درست نہیں، جب میں نے کوئی خطا ہی نہیں کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

قلی کی زبان سے اس قسم کے الفاظ سن کر مسافر آگ بھبھوکا ہو گیا اور اپنی جگہ سے اٹھ کر دروازے کے پاس کھڑا ہو کر چلانے لگا۔

"سخت کلامی سے پیش آنا درست نہیں۔۔۔۔۔۔۔کسی نواب کا صاحبزادہ ہے۔۔۔۔۔جتنے کی چھڑی ہے اتنی تو تیری قیمت بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔چھڑی لیکر آتا ہے یا نہیں؟۔۔۔۔۔۔چور کہیں کا۔”

چور کے لفظ نے قلی کے دل میں ایک طوفان برپا کر دیا، اسکے جی میں آئی کہ اس مسافر کو ٹانگ سے پکڑ کر نیچے کھینچ لے اور اسے اس اکڑ فوں کا مزا چکھا دے۔ مگر طبیعت پر قابو پا کر خاموش ہو گیا اور نرمی سے کہنے لگا۔

"آپ کو ضرور غلط فہمی ہوئی ہے، چھڑی آپ نے کہیں رکھ دی ہو گی، مجھے بتائیے میں وہاں سے پتا لے آؤں۔”

"گویا میں بیوقوف ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔میں کہہ رہا ہوں، چھڑی لیکر آؤ ورنہ ساری شیخی کرکری کر دوں گا۔”

قلی ابھی کچھ جواب دینے ہی لگا تھا کہ اسے چند قدم کے فاصلے پر خانساماں نظر آیا جو ہاتھ میں سگریٹ کا ڈبہ اور چھڑی پکڑے چلا آ رہا تھا۔

"چھڑی خانساماں لیکر آ رہا ہے اور آپ خواہ مخواہ مجھ پر برس رہے ہیں۔”

"بکو نہیں اب۔۔۔۔۔۔۔کتے کی طرح چلائے جا رہا ہے۔”

یہ سن کر قلی غصے سے بھرا ہوا مسافر کی طرف بڑھا۔ مسافر نے پورے زور سے اسکے بڑھے ہوئے سینے میں نوکیلے بوٹ سے ٹھوکر لگائی۔ ٹھوکر کھاتے ہی قلی چکراتا ہوا سنگین فرش پر گر کر بیہوش ہو گیا۔

قلی کو گرتے دیکھ کر بہت سے لوگ اسکے اردگرد جمع ہو گئیے۔

"بیچارے کو بہت سخت چوٹ آئی ہے۔”

"یہ لوگ بہانہ بھی کیا کرتے ہیں۔”

"منہ سے شاید خون بھی نکل رہا ہے۔”

"معاملہ کیا ہے؟”

"اس آدمی نے اسے بوٹ سے ٹھوکر لگائی ہے۔”

"کہیں مر نہ جائے بیچارہ۔”

"کوئی دوڑ کر پانی کا ایک گلاس تو لائے۔”

"بھئی ایک طرف ہٹ کر کھڑے رہو، ہوا تو آنے دو۔”

قلی کے گرد جمع ہوتے ہوئے لوگ آپس میں طرح طرح کی باتیں کر رہے تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد خالد اور اسکا دوست بھیڑ چیر کر گرے ہوئے مزدور کے قریب پہنچے۔ خالد نے اسکے سر کو اپنے گھٹنوں پر اٹھا لیا اور اخبار سے ہوا دینا شروع کر دی۔ پھر اپنے دوست سے مخاطب ہو کر بولا۔

"مسعود، وحید سے کہہ دو کہ ہم اب اسے گھر پر ہی مل سکیں گے۔۔۔۔اور ہاں ذرا اس ظالم کو تو دیکھنا، کہاں ہے۔۔۔۔گاڑی چلنے والی ہے، کہیں وہ چلا نہ جائے۔”

یہ سنتے ہی لوگ اس مسافر کے ڈبے کے پاس جمع ہو گئے جو کھڑکی کے پاس بیٹھا کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اخبار پڑھنے کی بے سود کوشش کر رہا تھا۔

مسعود اپنے دوست وحید سے رخصت لیکر اس مسافر کی طرف بڑھا اور کھڑکی کے قریب جا کر نہایت شائستگی سے کہا۔

"آپ یہاں اخبار بینی میں مصروف ہیں اور وہ بیچارہ بیہوش پڑا ہے۔”

"پھر میں کیا کروں؟”

"چلئے اور کم از کم اسکی حالت کو ملاحظہ تو کیجیئے۔”